ایڈلیڈ، آسٹریلیا / مانیٹرنگ ڈیسک– شدید گرمی کے دوران کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے کلب کرکٹر جنید ظفر خان کا پچ پر گر کر انتقال ہو گیا۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جنید ظفر خان 41.7 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید گرمی میں بیٹنگ کرتے ہوئے اچانک زمین سے ٹکرا گئے اور فوری طبی امداد کے باوجود بچائے نہ جا سکے۔
واقعہ ہفتہ کو کانکورڈیا کالج اوول میں پیش آیا جہاں اولڈ کانکورڈینز کرکٹ کلب کے کھلاڑی جنید ظفر خان نے 40 اوورز تک فیلڈنگ کی اور بیٹنگ کے دوران 7 اوورز کھیلنے کے بعد میدان میں بے ہوش ہو گئے۔ فوری طور پر ایمبولینس کی مدد طلب کی گئی اور پیرامیڈیکس کی جانب سے بھرپور کوششیں کی گئیں، مگر افسوس کہ ان کی جان بچائی نہ جا سکی۔
کلب کے جاری کردہ بیان میں جنید ظفر خان کی اچانک وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا کہ میچ کے دوران وہ غیر متوقع طبی پیچیدگی کا شکار ہو گئے۔ ساتھ ہی، کلب نے ان کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی کھلاڑیوں کے لیے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ایڈیلیڈ ٹرف کرکٹ ایسوسی ایشن کے قوانین کے مطابق اگر درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو میچ منسوخ کر دیا جاتا ہے، تاہم 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک کھیل جاری رکھنے کی اجازت ہے بشرطیکہ کھلاڑیوں کو اضافی وقفے اور پانی کی فراہمی کی سہولت مہیا کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق، جنید ظفر خان رمضان کے روزے رکھ رہے تھے لیکن ان کے ایک قریبی دوست نے بتایا کہ وہ دن بھر پانی پیتے رہے تھے۔
اسلامی سوسائٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے صدر احمد زریکیہ نے جنید ظفر خان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موت کی اصلی وجہ کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے، یہاں تک کہ تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد روزہ رکھتے ہیں جن میں کھلاڑی اور سخت جسمانی محنت کرنے والے بھی شامل ہیں، اور اسلام میں بیمار یا کمزور افراد کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت موجود ہے، لہٰذا صرف روزہ رکھنے کی بنا پر اچانک طبی پیچیدگی کا وقوع پزیر ہونا ثابت شدہ نہیں۔
اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف کرکٹ کمیونٹی بلکہ وسیع تر معاشرے میں بھی گہرے دکھ اور صدمے کا باعث بنا ہے۔ متعلقہ حکام اور کرکٹ ایسوسی ایشن اس واقعہ کی مکمل تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

.webp)